Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany Research

Vendor jmnt.net
Regular price $ 350.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany ResearchKalam Shakir : Kalam Shakir

9786273002811

ابھی صبح ہونے ہی والی تھی کہ ان میں سے ایک سسکیاں بھرنے لگا اور زور زور سے رونے لگا۔

بھینس کی طرح کھلے میدانوں میں چرنے کے بعدتالاب میں نہانا بلکہ کیچڑ میں لت پت ہونا ، مالیوں کے باغ سے سیب اور گالیاں کھانا، دھوپ میں لیٹ کر جگالی کرنا اور سر شام ماں کے کوسنے اور ’’ڈوٹے ‘‘ کھا کر سو جانا۔ایسے شب و روز میں سفر کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ضرورتاً پنڈی جانا پڑتا تو منگ کے مقام پرقبضہ مخالفانہ چھڑانے کے لیے مارکھانا پڑتی اور دوچار میل کھڑے رہ کر سفر بھی کرنا پڑتا۔عقل آنے پر عالم یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہرمنگ پہنچنے پربا ادب کھڑے ہو جاتے۔’’آئیے جناب یہ سیٹ ہم پنڈی سے آپ کے لیے ریزرو کروا کہ لائے ہیں۔آئیے تشریف رکھیے ‘‘۔ پہلی بار کراچی جانا ہوا تو آغاز سفر میں ہی لڑائی ہو گئی۔نتیجۃً وزیر آباد کے مقام پر ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دے دلا کر جان چھوٹی اور تیسرے دن کراچی پہنچے۔اسی لیے سفر سے چڑ ہے۔ لہٰذا جب بھی سفر کیا بامر مجبور ی کیا۔ شوقیہ سفر کے ماروں سے ہماری کبھی نہیں بن پائی۔ ہمیں تو بھینس نما لوگ چاہئیں جو بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہ لیں۔مگر ہمارے بیٹھنے پر بھی بزرگوں کو اعتراض رہتا تھا۔ کبھی آملوک یا اخروٹ کے اونچے ، سوکھے ٹہنے پر بیٹھ گئے ،کبھی ’’ادھ کندی‘‘پر یا مکان کی چھت پر۔ بزرگ کہتے ’’کیوںکِلیوں پر انڈے دے رہے ہو‘‘؟ تب سے ہم نے ’’کِلیوں ‘‘کی بجائے سکول میں انڈے دینا شروع کر دیے۔ مگربرادرم جاوید خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے۔آج کا مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی تو یہ بھرم تادیر قائم رہتامگر حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔سفر ہمیں کسی صورت راس نہیں آتا۔ نیند اور تھکاوٹ سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ کھانے کو ڈھنگ کا ملتا ہے نہ پینے کو۔ بڑی ائر لائنوں میں بھی پینے کے لیے چلّو بھر پانی ملتا ہے۔اور کچھ ہو نہ ہو قبض تو لازم ہو جاتی ہے۔ایک دن رات کا سفر ایک ہفتہ خراب کر دیتا ہے۔ سوسفر کے تذکرے سے جس نامراد کی طبیعت خراب ہونے لگے اگر اسے سفرنامہ پڑھنا پڑے تو خود اندازہ کیجیے کہ اس پر کیا گزرے گی۔اور سفر نامہ بھی یورپ، امریکہ کے رنگین گلی کوچوں کی بجائے …ہمالیہ کے سنگلاخ پہاڑوں کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی خیر نہیں۔قاری نہیں یا سفر نامہ نہیں۔یہ سفر بھی کوئی آسان سفر نہ تھا۔خصوصاًایسے دنوں میںجب کسی کو کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر اُبکائیاں آتی ہوں، جی متلاتا ہو اور نیند بھی ٹھیک سے نہ آتی ہو، سفر سے پرہیز کرنی چاہیے۔چہ جائیکہ اس قدر پر خطر راستوں پر نکل جائیں۔چلو جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ۔ مٹی پالیتے اگر بات سفر تک ہی رہتی۔ مگراتنے مشکل سفر کا روزنامہ بھی لکھ دیا۔ یقیناعام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ مصنف موصوف نے کتاب پر اس قدر محنت کی ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کئی ہفتے لگے ہو ں گے۔ بہرحال جتنی محنت کرنی تھی کر لی اب تو محنت کا میدان بدل گیا ہے۔

محبوب تابش خواب ݙیہدے تے ول خوابیں دی تعبیر کوں اپݨی تاب تے دانش نال پورا کرݨ وی ڄاݨدے ۔

خان زادہ چودھویں صدی نصف آخر سے سترھویں صدی کے نصف اول تک کے ان جانبازوں کی داستان ہے، جنھوں نے نہ صرف مقامی اشرافیہ کے طور پر بھی اپنی جداگانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی بلکہ اپنی عزت نفس اور مادر وطن سے شدید محبت اور اس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بہادر ناہر یعنی ناہر خان یا بہادر خان میوات کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جہاں سے خان زادہ کا سلسلہ تاریخ ہوتا ہے۔ اُسے عہد سلطنت میں خان زادہ کا خطاب دیا گیا۔ امیر تیمور کے حملے کے بعد وتی کی سیاست پر پوری طرح اثر انداز ہوا۔ بہادر ناہر کے بعد اقلیم خان ، جلال خان، احمد خان ، علاول خان اور حسن خان میواتی نے بھی اسی روایت کو آگے لے جاتے ہوئے وتی کے شاہی حلقے میں خان زادوں کی سیاسی اور سماجی حیثیت کا دبدبہ قائم رکھا۔ حسن خان میواتی نے رانا سانگا اور اس کے ہم نواؤں کے ساتھ مل کر باہر کے خلاف خانوہ کی جنگ بھی لڑی۔ آج بھی اس خطے کے لوگ حسن خاں میواتی کو ایک بہادر جنگجو کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ خان زادوں کی داستان کے ساتھ اس دور کے تعلق ، سادات ، لودھی ، افغانوں اور مغلوں کے تاریخی واقعات بھی اس ناول کا حصہ ہونا عین فطری ہے۔

ترتیب، تدوین وتحریر: خلیل احمد

انسانی قدورں کے فروغ میں انسانی صوفیانہ شاٰعری کا کردار

ایشیا کی بیداری

ڈیل کارنیگی جو کہ ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوا اور مسلسل جدوجہد اور محنت کے بعد جس کا شمار امریکہ کی چند امیر ترین شخصیات میں ہوا اور اسکے ادارے ڈیل کارنیگی انسٹیٹیوٹ کی شاخیں دنیا کے تمام بڑے ممالک میں کھلیں۔

کیا ہمارے موجودہ خدا اور مذاہب اگلے 100 سالوں میں ختم ہو جائیں گے؟ انسانی تاریخ کی سب سے اہم تبدیلی کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ ہمارے خداؤں، مذاہب کی اصلیت دریافت کریں اور اگلے 100 سالوں میں دنیا آخر کار ملحد کیوں ہو جائے گی۔ اس کتاب کا مطالعہ بنیادی طور پر دنیا کے بارے میں آپ کا نظریہ بدل دے گا۔ کتاب بے خوفی کے ساتھ ہمارے موجودہ بڑے مذاہب، ان کی ابتداء اور ان کی آخری موت کے راستے کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ ان ثبوتوں کا جائزہ لیتا ہے جو ہم نے قدیم مذاہب کے بارے میں دریافت کیے ہیں، ان ثبوتوں پر جن پر خرافات، رسومات، ممنوعہ اور توہم پرستی کا غلبہ ہے- اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے موجودہ مذاہب میں ہر ایک کا کتنا حصہ ابھی تک موجود ہے۔ کتاب پھر پوچھتی ہے کہ کیا آج کے دیوتا واقعی ہمیشہ موجود تھے، جو اس کی تخلیق کے بعد سے دنیا کی صدارت کر رہے ہیں، ہر ایک ہمارے کائنات کا حتمی خالق اور حکمران ہے- یا اگر، حقیقت میں، وہ واقعی کبھی موجود تھے؟ اس کے بعد نسل انسانی کا مذہب پر مضبوط انحصار اور انحصار پر تفصیل سے غور کیا جاتا ہے۔ ہمارے بچے ملحد کیوں ہوں گے اس سوال سے نمٹتے ہیں کہ کیا مذہب کسی شخص کو بہتر اخلاق اور ضروری نیکی سے ہمکنار کرتا ہے۔ خاص طور پر، یہ تحقیق پر تنقیدی بحث کرتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذہبی بچے اپنے غیر مذہبی ہم منصبوں سے زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔ ان طاقتور میکانزم کا بھی جائزہ لیا گیا جو مذہب اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور مذہب کو آگے بڑھانے کے لیے ریاست کا استعمال۔ کتاب کے آخری حصے میں کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ علم، زندگی کی ابتداء اور اس کے ارتقاء کا مختصراً خاکہ پیش کیا گیا ہے، یہ سب بتدریج خصوصی تخلیق کے ہمارے تصورات کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس کے بعد انسانی روحانیت کے نئے، ابھرتے ہوئے مرحلے کو بیان کیا گیا ہے، جو ایک ایسے نمونے کی نمائندگی کرتا ہے جو آخر کار موجودہ عقائد کو غیر متعلقہ بنا دے گا، جو کہ مذہب سے پاک دور کے آغاز کی علامت ہے۔ مذہب کے پچھلے 100 سال یہاں ہیں۔

His Eloquent Analysis Offers A Fresh Perspective On The Challenges Faced By Afghanistan

عزیز احمد کے ناول "گریز" سے اقتباس

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany Research orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany Research ships.

Need Help?
Questions about Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany Research, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for Kalam Shakir – کلام شاکر: شاعری Shakir Shuja Abadi Novel / Afsany Research in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>