Tareekh Arab By Yasir Jawad Urdu NovelTareekh Arab By Yasir Jawad
سنجیدہ تحفظات کے ضمن میں صرف ایک چیز لکھتا ہوں۔ “بنتِ داہر” میں ٹی ایس ایلیٹ کے ذکر کردہ “تاریخی شعور” کے بروئے کار آنے میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے۔ داہر ڈائناسٹی کی تاریخی روایت اُس وقت کی ہے جب اسلام کی سیاسی قوت سنی اور شیعہ میں تقسیم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی شیعہ روایت کا سیاسی نام و نشان بھی نہیں تھا۔ مصنف کے تاریخی شعور کی اِس افسوسناک کمی نے تاریخی روایت کو شیعہ مذہبی روایت بنانے کی اِس تصویر میں دھندل سی ڈال دی ہے۔ امید ہے کہ اِس ضروری پہلو کی طرف توجہ کی جاسکے گی۔
ایلن ووڈز کی شاہکار تصنیف “بالشویزم: راہ انقلاب” کے اردو ترجمے کا خصوصی پیش لفظ
BAHADUR SHAH ZAFAR KY SHAB O ROZ- بہادر شاہ ظفر کے شب و روز By Zia Ud Din Lahori
AITMAD KI QUWAT By Hafiz Muzaffar Mohsin
JEENY KI WAJAH by Muhammad Kashif Munawar
کا شکار ہونے کے بعد آزادی سے ہمکنار ہوئے یا پھر جہاں صدیوں سے بادشاہت چلی آتی تھی، یعنی فرد واحد کے حکم کے تحت چلنے والے نظام کے زیر سایہ پل بڑھ کر جوان ہوئے۔ دونوں نظاموں میں حکمرانی کا مقصد عوامی خدمت کے برعکس عوامی استحصال اور اپنے اقتدار کو طول دینا تھا لہذا دونوں نظاموں نے رعایا کو وہ اعتماد ہی نہ دیا جو ان میں جرات افکار اور جدت کردار کو جنم دیتا۔
ابھی فیصلہ طے ہو نہیں پایا تھا۔
امید ھے ان موضوعات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پسند آئے گی۔
پسماندہ قوموں کی سیاست
JANG E AZEEM DOOM KY AZEEM COMMANDER by Lieutenant Colonel Ghulam Jilani Khan
المیے کا جنم “ قدیم یونانی ثقافت میں اپولونین اور ڈائیونیسیائی قوتوں کے گہرے باہمی تعامل کی کھوج کرتی ہے۔ 1872ء میں شائع ہونے والی یہ بنیادی تصنیف نطشے کے ابتدائی فلسفیانہ بصیرت کو ظاہر کرتی ہے، جو فنکارانہ اظہار میں نظم اپولونین) اور انتشار (ڈائیونیسیائی) کے درمیان کشیدگی کی جانچ کرتی ہے۔ یونانی افسانوں اور ڈرامے سے استفادہ کرتے ہوئے، نطشے کا دعویٰ ہے کہ ان متضاد عناصر کا اتحاد حقیقی فنکارانہ ذہانت کو جنم دیتا ہے۔ ایک اہم متن، یہ نہ صرف نطشے کی فکری پختگی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کی بعد کی فلسفیانہ تحقیقات کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ " المیے کا جنم " ان لوگوں کے لیے ایک لازمی کام ہے جو نطشے کے خیال مغربی جمالیات کی ابتدا میں غور و فکر کرتے ہیں۔
کیپٹن ڈول انگریزی مصنف ڈی ایچ لارنس کا ناول ، یہ 1921 میں لکھا گیا تھا اور پہلی بار مارٹن سیکر نے مارچ 1923 میں دی لیڈی برڈ اور دی فاکس کے ساتھ ایک جلد میں شائع کیا تھا۔ یہ 1983 کی اسی نام کی ٹی وی فلم کی بنیاد تھی جس میں جیریمی آئرنز بطور کپتان تھے۔