Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka

Vendor jmnt.net
Regular price $ 175.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka" " " ISBN 9786273003023 Pages 128

Carthusian Monks

Has Allowed Me To Deeply Appreciate His Scholarly Contributions

پروفیسر اسد سلیم شیخ ایک معروف ادیب اور مؤرخ ہیں، جو گزرگئی ، سو گزرگئی“ جیسا کمال وہی کر سکتے ہیں کہ یہ کسی عام ادیب کے بس کی بات نہیں۔

یانگ مو | Yang Mo

زلزلوں نے تباہ کیا،

اس انشائیے کی ابتداء اس قدر طنز و مزاح سے کرتے ہیں کہ قاری میں ایک خوشی کی لہر دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن وہی قاری جب اس کو سنجیدہ معنوں میں لیتا ہے تو اسے وہ تمام تر پہلو اپنے معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جن کو معاشرہ فراموش کر چکا ہے اور اس پر سوچ بچار کرنا اپنا حق نہیں سمجھتا۔ انہوں نے انشائیہ کو اس طرح پیش کیا کہ تاریخ کا حصہ بھی کھل کر سامنے آ گیا اور قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔

صٖفحات 174

دستوئیفسکی نے سائبیریا میں چار سال قید با مشقت میں گزارے ۔ سائبیریا کی قید سے وہ اس شرط پر رہا کیا گیا وہ اپنی خدمات فوج کیلئے وقف کردے ۔1859 میں وہ تمام الزامات سے بری کر دیا گیا اور اسے پیٹرزبرگ جانے کی اجازت دے دی گئی ۔

داناؤں کا قول ہے کہ جب آپ اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تو کوئی دوسرا یہ کام کرے گا۔ وطن عزیز میں مسخ شدہ تاریخ کے ذریعے نوجوانوں کو لوری دے کر سلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ وہ حقیقت سے غافل رہیں اور اس کی آڑ میں سرمایہ داروں، جاگیر داروں، تمن دار اور نوکر شاہی قومی وسائل پر ہاتھ صاف کر کے اپنی عیاشیوں کا سامان کرتے رہیں۔ لیکن خدا کی قدرت ہے کہ جب آپ حقیقت کو چھپانے یا مسح کرنے کی کوشش کریں گے تو کہیں نہ کہیں سے محکوم طبقہ کو اس کا سراغ لگ ہی جائے گا۔ آج کل وطن عزیز پر بھی یہ بات درست ثابت آتی ہے جہاں قصیدہ گو مورخین اور فتوی فروش فقیہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کمینگی کی ہے۔ وہاں بعض ملکی / غیر ملکی محققین نے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں خورشید کمال عزیز کی کتاب " تاریخ کا قتل " ، وکیل انجم کی سیاست کے فرعون " اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی "خاکی وردی " جیسے درخشاں نام شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نام نہاد ترقی پسند قلمکاروں نے اپنے سابقہ آقاؤں اور موجودہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور کالے کرتوتوں کو مصلحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ قارئین کہ ایک محدود حلقہ تک محدود رہی۔ اس کے برعکس حق و صداقت کے علمبردار محققین نے پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے سیاستدانوں اور فوجی و شہری نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ کو طشت از بام کر کے عوام کو حقیقت سے روشناس کرنے کی کوشش کی ہے جن کو وطن عزیز میں اچھی خاصی پذیرائی ملی ہے کیونکہ ان صاحب نظر لوگوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے حقائق کو طشت از بام کر کے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کر کے انقلاب کی راہ ہموار کی ہے۔ ان میں فاضل مصنفہ روزیٹا آرمیٹیج بھی شامل ہے جس نے اپنے علمی منصوبے پر کام کرنے کے دوران پورے ملک کے سیاسی، صنعتی، فوجی، علمی اور کاروباری حلقوں کا بغور مشاہدہ کر کے حقیقت کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے جس کو تعلیمی اور صحافتی شعبدہ بازی کے ذریعے عوام الناس سے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ فاضل مصنفہ نے مذکورہ بالا حلقوں کے سرکردہ لوگوں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان خاندانوں کی مختلف سماجی تقریبات میں بھی شرکت کی جس سے اس پر اشرافیہ کے خاص پہلو آشکار ہوئے کہ کس طرح یہ لوگ خود کو عوام الناس اور باقی طبقات سے بالا تصور کرتے ہیں۔ یہی بالا دستی اور احساس برتری کا تصور ایک زہر آلود خنجر ہے جو خلق خدا کی رگِ جاں میں اترا ہوا ہے علی فاضل مصنفہ نے اپنے مشاہدہ سے واضح کیا کہ صنعتکار ، سیاستدانوں سے گٹھ جوڑ کرنے کے بجائے فوجی افسر کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں شاید انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے اسی طبقہ کی وطن عزیز کے طول و عرض پر حکمرانی ہے ، باقی سب تو مہرے ہیں جو ان کے کہنے پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں مصنفہ نے سیالکوٹ شہر کو نوجوان فوجی افسروں کا سسرالی شہر قرار دیا ہے۔ خاندانی پس منظر کے پیش نظر یہ برطانوی سامراج کے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر ملک کے بڑے بڑے سیاسی، معاشی، صنعتی اور علمی کاروباری اور نوکر شاہی عہدوں پر براجمان ہو کر ایک خاص طبقہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح یہ طبقہ اپنی عیاشیوں کا سامان کرنے کے لیے ملک میں بڑے بڑے کلبوں کی ممبر شپ حاصل کرتا ہے جہاں ہر امیر آدمی کو جانے کی اجازت نہیں خواہ اس کے پاس اربوں روپے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ فاضل مصنفہ کے مطابق ان کلبوں کی رکنیت کے لیے خاص قسم کی پہچان درکار ہے اور یہ سہولت وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کی ماضی میں برطانوی حکمرانوں کے درباروں میں کسی نہ کسی حوالے سے رسائی رہی ہے۔ اس گروہ کے مقابلے میں امیر طبقہ جسے مصنفہ نوے راجے " کہہ کر پکارتی ہے نے اپنے احساس کمتری کو مٹانے / کم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب میں بڑے بڑے کلب قائم کر لیے جن کی فیس،،۔۔۔

New York 1978

Capitalism: A Ghost Story is a book by Arundhati Roy

جہانِ دانش کے نادر و نایاب مناظر دانش یونانیاں سے لے کر دانش روحانیاں تک انسانی ارتقا کی داستان نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ اس مجلس کے مہمانان خصوصی ارسطو اور شاہ ولی اللہ ہیں اور اس کے ارکان میں سقراط اور افلاطون کے ساتھ ساتھ بہاء الدین زکریا ملتانی، بابا فرید الدین گنج شکر، بابا بلھے شاہ، شاہ شمس تبریزی، حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ، شاہ شمس سبزواری ، رحمن بابا، شاہ لطیف بھٹائی، مست توکلی اور مولانا عبید اللہ سندھی کے سے عظیم فلسفی اور صوفی ہیں۔ ان عظیم شخصیات کے درمیان مجلس مذاکرہ ایک نادر و نایاب علمی اور فکری سرگرمی ہے جو اپنی نوعیت کی پہلی کا نفرنس ہے مجھے یقین ہے کہ یہ ایجاد و اختراع ہماری اور ادبی زندگی کو نت نئی توانائیاں بخش گی

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka ships.

Need Help?
Questions about Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for Nojawan Urdu Muhaqaq Ku Nam Khat Dr Tahir Nawaz نوجوان اردو محقق کے نام خطوط طاہر نواز Franz Kafka in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>